جس کا کوئی بھی نہیں اس کا خدا ہے یارو
میں نہیں کہتا کتابوں میں لکھا ہے یارو
مڑ کے دیکھوں تو کدھر اور صدا دوں تو کسے
میرے ماضی نے مجھے چھوڑدیاہے یارو
شب ہے اس وقت کوئی در نہ کھلا پاؤگے
آؤ مئے خانے کا دروازہ کھلا ہے یارو
حال کا زخم تو ماضی سے بہت گہرا ہے
آج زخمی میرا سایہ بھی ہوا ہے یارو
انتظار آج کا دن بڑی مدت سے تھا
آج اس نے بھی مجھے دیوانہ کہا ہے یارو
کوئی دیتا ہے دعائیں تو جل جاتا ہوں
میراجیون کسی مندر کا دیا ہے یارو
اس سزا سے تو مرا جی ہی نہیں بھرتا ہے
زندگی کیسے گناہوں کی سزا ہے یارو
کرشن بہاری نور